اردوترميم

اشتقاقیاتترميم

اصلاً عربی زبان کا لفظ عربی بُرْقُع ہے عربی میں فارسی سے ماخوذ ہے، اور فارسی (فارسی برقع) سے اردو میں ماخوذ ہے۔

اسمترميم

برقع مذکر (جمع برقعے)

  1. نقاب، پردہ
    ”آہ اس قوم پر جو لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے مکر و پندار کے کالے سوت سے بنے ہوئے تقدس کے برقع کو اپنے منہ پر ڈالے۔“[1]
  2. ایک خاص وضع کا سلا ہوا لباس جسے پردہ نشیں عورتیں گھر سے باہر نکلتے وقت اوڑھتی ہیں۔
    وہ بھی برقع اوڑھ کے ساتھ ہو گئی۔"[2]
  3. لباس، روپ، بھیس، چولا۔
    ”وہ شجاعت جو یورپ میں زن مریدی کے برقع میں جلوہ افروز ہے ان میں تار عنکبوت سے زیادہ نہ تھی۔“[3]

حوالہ جاتترميم

  1. 1901ء، حیات جاوید، 203
  2. 1924ء، اختری بیگم، 214
  3. 1915ء، سجاد حسین، کایا پلٹ، 33

عربیترميم

اشتقاقیاتترميم

مادہ ب ر ق ع (ب-ر-ق-ع) سے۔

اسمترميم

بُرْقُع

  1. برقع

فعلترميم

برقع (برقع)

  1. لپیٹ لینا
  2. ڈھانکنا
  3. نقاب کرنا
  4. ڈھانکنا
  5. راز میں رکھنا

فارسیترميم

اشتقاقیاتترميم

عربی بُرْقُع سے ماخوذ۔

اسمترميم

برقع (برقع)

  1. برقع
  2. حجاب
  3. مقنع