حاصِل {حا + صِل} (عربی)

ح ص ل، حاصِل

یہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ حصل اس کا حروف اصلی ہے اردو میں یہ اسم مذکر کے طور پر مستعمل ہے۔ 1739ءکو "کلیات سراج" میں مستعمل ہے۔

اسم نکرہ (مذکر - واحد)

جمع: حاصِلِین {حا + صِلِین}

جمع استثنائی: حاصِلات {حا + صِلات}

جمع غیر ندائی: حاصِلوں {حا + صِلوں (و مجہول)}

معانیترميم

1. پیداوار (کھیتی میں)۔

؎ فیض سے تیرے رہی وابستہ حاصل کی امید

تشنہ لب کھیتی نہ جا اے ابر نیساں چھوڑ کر، [1]

2. فائدہ، نفع، نتیجہ۔

"اب ٹسوے بہانے سے کیا حاصل۔"، [2]

3. ماحصل، خلاصہ، مقصد۔

؎ مے یہ ہے حاصل داستان دکن

کہ آصف ہے صاحب قرآنِ دکن، [3]

4. (ریاضی) وہ عدد یا رقم جو مختلف عددوں کی تقسیم ضرب جمع یا تفریق سے پیدا ہو۔

"ایک آنہ حاصل ہوا اب اس ایک آنہ کو آنوں میں جوڑو۔"، [4]

5. نتیجہ، پھل۔

؎ مسلمان ملّت اسلام کا دل ہے یہ شہر۔

سینکڑوں صدیوں کی کشت و خون کا حاصل ہے یہ شہر، [5]

6. کسی چیز کا بقیہ۔ (نوراللغات)۔

7. نقدی، آمدنی، وصول شدہ رقم۔

"اوقاف کا حاصل پوری جماعت کے مفاد پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔"، [6]

انگریزی ترجمہترميم

product, produce, outcome, what is cleared, what remains (of anything), result, issue, ultimate consequence; inference, deduction; produce or net produce (of land , or of anything that is a source of revenue); acquiring; acquisition, advantage, profit, gain, good; market dues

مترادفاتترميم

مُنافَع، پَیدائِش، یافْت، یاب، وُصُول، تَراوِش، حُصُول، نَفْع، جات،

مرکباتترميم

حاصِلِ مُشاعَرَہ، حاصِلِ مَطْلَب، حاصِل اِحْتِراق، حاصِل بازار، حاصِل بِالْمَصْدَر، حاصِلِ تَصَوُّر، حاصِلِ تَفاعُل، حاصِلِ تَفْرِیق، حاصِلِ تَقْسِیم، حاصِلِ جَمْع، حاصِل خیز، حاصِل دار، حاصِلِ دَعْویٰ، حاصِل زَمِین، حاصِلِ ضَرْب، حاصِلِ طَرَح، حاصِلِ غَزَل، حاصِل کَرَنْہار، حاصِل کی تَحْصِیل، حاصِلِ گَرْدِش، حاصِل گُرْوپ، حاصِلِ مُخْتَتَم، حاصِلِ مَساحَت، حاصِلِ مَصْدَر، حاصِلِ مَطْلُوب

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1937ء، نغمۂ فردوس، 77:1 )
  2. ( 1908ء، صبح زندگی، 99 )
  3. ( 1931ء، بہارستان، 1307، 4 )
  4. ( 1908ء، صبح زندگی، 195 )
  5. ( 1924ء، بانگ درا، 157 )
  6. ( 1932ء، مشاہدات، سیماب، 23 )

مزید دیکھیںترميم