حاضِر باش {حا + ضِر + باش}

عربی زبان سے مشتق اسم حاضر کے ساتھ فارسی مصدر باشیدن سے صیغہ امر باش بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم، صفت نیز حرف استعمال ہوتا ہے اور تحریراً سب سے پہلے 1888ء کو "ابن الوقت" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ (مذکر)

جمع غیر ندائی: حاضِر باشوں {حا + ضِر + با + شوں (و مجہول)}

معانیترميم

1. ہر وقت موجود رہنے والا، مصاحب۔

"چھت گری اور بادشاہ مع چند حاضر باشوں کے دب کر مر گیا۔"، [1]

انگریزی ترجمہترميم

lit be ready; a constant or regular attendant, one who is never from his post; a follower, retainer

صفت ذاتی

جمع غیر ندائی: حاضِر باشوں {حا + ضِر + با + شوں (و مجہول)}

معانیترميم

1. پابندی کے ساتھ رہنے والا، حاضری کا پابند، باقاعدگی سے آنے والا، موجود۔

"ٹائپ کی کلاسوں میں حاضر باش رہنے والیوں سے کئی بار میرا ٹاکرا ہوا۔"، [2]

حرف تنبیہ

معانیترميم

1. تیار ہو، ہوشیار رہو۔

"میں ہنگامہ صدائے حاضر باش و ناظر باش بلند چار پہر رات اسی ہنگامہ میں گزری۔"، [3]

مترادفاتترميم

حاضِرِ خِدْمَت، مَوجُود

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1953ء، تاریخ مسلمانان پاکستان و بھارت، 307:1 )
  2. ( 1981ء، راجہ گدھ، 124 )
  3. ( 1892ء، طلسم ہوش ربا، 275:6 )