حِفْظ {حِفْظ} (عربی)

ح ف ظ، حِفْظ

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ 1870ء کو "الماس درخشاں" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت (مذکر - واحد)

معانیترميم

1. زبانی یاد کرنے کا عمل، ازبر۔

"وہیں جاؤ کسی کتبے کو حفظ کر رہے ہوں گے۔"، [1]

2. بچاؤ، محافظت، نگہبانی۔

؎ حفظ ناموس تجلی کی یہاں تک کوشش

ایک جلوہ بھی نمایاں ہو تو پنہاں ہو جائے، [2]

3. جو کچھ محفوظ ہو، حافظہ، یاد۔

"ان کا مقصد یہ تھا کہ قرآن حفظ کی بنا پر نہ لکھا جائے۔"، [3]

4. یاس، لحاظ۔

"اپنے کسی بزرگ یا واجب التعظیم شخص کے سامنے بہ آواز بلند گفتگو کرنا، اس کے حفظ ادب کے منافی ہے۔"، [4]

انگریزی ترجمہترميم

preservation, keeping, care, custody, guardianship, protection, memory

مترادفاتترميم

بَچاؤ، تَحَفُّظ، پَناہ، یاد،

مرکباتترميم

حِفْظِ اَمْن، حِفْظِ غَیب، حِفْظِ مَراتِب، حِفْظِ نَفْس

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1982ء، مری زندگی فسانہ، 466 )
  2. ( 1935ء، عزیز لکھنوی، صحیفۂ ولا، 269 )
  3. ( 1914ء، شبلی، مقالات، 19:1 )
  4. ( 1915ء، فلسفہ اجتماع، 136 )

مزید دیکھیںترميم