حَفِیظ {حَفِیظ} (عربی)

ح ف ظ، حافِظ، حَفِیظ

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت اور اسم مستعمل ہے۔ 1838ء کو "بستانِ حکمت" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی (مذکر - واحد)

جمع استثنائی: حَفِیظِین {حَفی + ظِین}

جمع غیر ندائی: حَفِیظوں {حَفی + ظوں ( واؤ مجہول)}

معانیترميم

1. حفاظت کرنے والا، نگہبان۔ ؎ ہے جو عزم سفر خدا حافظ

رہ تو اس کا حفیظ یا حافظ، [1]

اسم معرفہ ( مذکر - واحد )</ref>

معانیترميم

1. خدا کا ایک صفاتی نام۔

؎ حفیظ و حسیب و مقیت و مصور

ستائش تری جان و دل کی غذا ہے، [2]

مترادفاتترميم

حافِظ، مُحافِظ، وَلی

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1838ء، بستان حکمت، 51 )
  2. ( 1964ء، فارقلیط، 144 )