حَمْد {حَمْد} (عربی)

ح م د، حَمْد

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ 1603ء میں "شرح تمہیدات ہمدانی" (ترجمہ) میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت (مذکر - واحد)

جمع غیر ندائی: حَمْدوں {حَم + دوں (و مجہول)}

معانیترميم

1. خدا کی تعریف، ستائش۔

؎ کیا حمد ہو خدا کی

حد ہی نہیں ثنا کی، [1] 2. کلام (نثر یا نظم) کا وہ حصہ یا جزو جس میں خدا کی تعریف و سپاس ہو۔

"حمد اور نعت لکھنا ہماری شاعری کی ایک ممتاز اور اہم روایت ہے۔"، [2]

3. تعریف و ستائش غیر خدا کی۔

"ان پرانوں میں چالیس چالیس ہزار اشعار ہوتے تھے جو وشنو اور شیو کی حمد کے ساتھ شروع کئے جاتے تھے۔"، [3]

انگریزی ترجمہترميم

praise (of God)

مترادفاتترميم

قَصِیدَہ، سِپاس، مَنْتَر، تَعْرِیف، سِتائِش، آرْتی، بھَجَن، خُطْبَہ،

مرکباتترميم

حَمْدوصَلٰوۃ، حَمْد سَرا، حَمْد سَرائی، حَمْد و ثَنا

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1971ء، صدرنگ، 16 )
  2. ( 1984ء، میرے آقا، 9 )
  3. ( 1956ء، آگ کا دریا، 52 )

مزید دیکھیںترميم