حَمِیَّت {حَمیْ + یَت} (عربی)

ح م ی، حَمِیَّت

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ 1805ء کو "آرائش محفل" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ (مؤنث - واحد)

جمع: حَمِیَّتیں {حَمیْ + یَتیں (ی مجہول)}

جمع غیر ندائی: حَمِیَّتیوں {حَمیْ + یَتوں (واؤ مجہول)}

معانیترميم

1. غیرت، شرم، ننگ۔

"غیرت اور حمیت اجازت نہیں دیتی کہ ننھے ننھے بچوں کی پیاس بجھنے سے پہلے اپنی پیاس بجھائی جائے۔"، [1]

2. غصہ، جوش، نفرت، اکراہ۔

(جامع اللغات)

انگریزی ترجمہترميم

indignation; scorn; ardour, impetuosity, zeal; a nice sense of honour; care or concern for what is sacred , or what one is bound to honour or defend

مترادفاتترميم

شَرْم، غَیرَت، غَیَرت

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1976ء، میرانیس، حمیات اور شاعری، 48 )