حَواس {حَواس} (عربی)

ح س س، حَواس

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے 1887ء کو "خیابان آفرینش" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت

واحد: حاسَّہ {حاس + سَہ}

جمع غیر ندائی: حَواسوں {حَوا + سوں (واؤ مجہول)}

معانیترميم

1. احساس کی قوت، خواس خمسہ میں سے کوئی ایک حس، قوت مدرکہ، حس کرنے کی قوت، قوت حس، حسی طاقت۔

؎ ضمائر، مشاعر، جوارح، حواس

عدو تنہائی و دیو دروں، [1]

2. ہوش، اوسان۔

؎ ہوش و حواس صبرو تحمل خوش نصیب

ان کی زبان پہ جلوہ دکھانے کی بات ہے، [2]

انگریزی ترجمہترميم

the senses

مترادفاتترميم

سَمَجھ، فَہْم، اَوسان،

مرکباتترميم

حَواس باخْتَگی، حَواس باخْتَہ، حَواسِ باطِن، حَواسِ خَمْسَہ، حَواس دار، حَواس سے، حَواسِ ظاہِری

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1969ء، مزمور میر مغنی، 184 )
  2. ( 1983ء، حصار انا، 80 )

مزید دیکھیںترميم