ضَعِیفُ الْعَقِیدَہ {ضَعی + فُل (الف غیر ملفوظ) + عَقی + دَہ} (عربی)

عربی زبان سے مشتق اسم صفت ضعیف کے بعد حرف تخصیص ال کے ساتھ عربی ہی سے مشتق اسم عقیدہ بطور موصوف ملنے سے مرکب توصیفی ضعیف العقیدہ بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ 1902ء کو "علم الکلام" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی (واحد)

معانیترميم

1. ضعیف الایمان، کمزور ایمان والا، مذہبی باتوں پر یقین نہ کرنے والا۔

"عقائد و مسائل اسلام پر اس آزادی اور بے باکی سے نکتہ چینیاں کیں کہ ضعیف العقیدہ مسلمانوں کے اعتقاد متزلزل ہو گئے۔"، [1]

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1902ء، علم الکلام، 3:1 )