آئِینَہ دار {آ + ای + نَہ + دار} (فارسی)

فارسی زبان سے اسم آئینہ کے ساتھ فارسی مصدر داشتن سے مشتق صیغہ امر دار بطور لاحقہ فاعلی ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم اور صفت مستعمل ہے۔1635ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ جمع غیر ندائی: آئِینَہ داروں {آ + ای + نَہ + دا + روں (و مجہول)}

معانیترميم

وہ ملازم یا ملازمہ

جو آئینہ دکھانے کی خدمت پر مامور ہو، حجام، نائی۔

؎ نگاہ سوز ہے ازبسکہ جلوہ عارض

کوئی حسِیں ترا آئینہ دار ہو نہ سکا [1]


معانی2ترميم

صفت ذاتی

ظاہر کرنے والا، ترجمان، عکاس۔

؎ گداز عشق سے لبریز تھا قلب حزیں اس کا

مگر آئینہ دار شرم تھا روے حسیں اس کا [2]

2. (عمارت کا حصہ یا لکڑی وغیرہ کا فرنیچر، جیسے : طاق، کواڑ، الماری وغیرہ)، جس میں آئینے جڑے ہوئے ہوں، آئینے والا۔

"منزل ثانی پر ہر طرف میانہ میں سہ درہ مرغولی جس میں اب آئینہ دار طاق لگے ہوئے ہیں اور ان کی بغلوں میں ایک ایک محراب مرغولی ...." [3]

3. آئینہ بنانے والا؛ آئینہ دیکھنے والا، آئینے کا مالک۔

؎ خود کو مٹا کے کیجے تلاش اپنے یار کی

آئینہ میں شبیہ ہے آئینہ دار کی [4]

مترادفاتترميم

مَظْہَر غَمّاز

رومنترميم

Aainah dar

تراجمترميم

انگریزی: A person who holds the mirror (when one makes one’s toilet); a barber (as he holds the mirror before the person he dressed) Holding identical views

حوالہ جاتترميم

    1   ^ ( دیوان حبیب، 1900، 8 )
    2   ^ ( اخترستان، 1926ء، 66 )
     3  ^ ( تحقیقات چشتی، 1862ء، 894 )
     4  ^ ( بستان تجلیات، 1938ء، 114 )