منبر ایک لڑکی کی سیڑھی نما کرسی ہوتی ہے جو عموماً تین، سات یا گیارہ سیڑھیوں کی ہوتی ہے۔ پہلی بار یہ لفظ اردو زبان میں 1528ء میں استعمال ہوا۔

معانیترميم

  • لکڑی کی سیڑھی نما کرسی جس پر بیٹھ کر امام خطبہ یا واعظ پڑھتا ہے۔ اکثر اوقات شعراء تقریر، مرثیہ، حمد، نعت یا منقبت بھی پڑھتا ہے۔
  • ایک قسم کا چبوترہ جس پر کھڑے ہو کر تقریر کی جاتی ہے۔
  • پڑھنے کی ایک میز، رحل (Reading desk) یا کتاب رکھنے کے لیے ایک لکڑی کی چوکی۔
  • ظاہری معنیٰ میں علماء بھی مراد لیے جاتے ہیں جیسے کہ: ’’اہل منبر‘‘ سے مراد علماء۔ روحانی معنیٰ میں روحانیت سے بے بہرہ افراد کے لیے بھی مستعمل ہے۔

اشتقاقترميم

منبر عربی زبان سے مشتق ہے اور اِس کا مادہ ن، ب، ر سے مخرج ہوا ہے۔

اسنادترميم

؎ او لب منبر ، عصا ناسک خطیب او آنکھ قابل ہے

بھواں کالے ورق ہت میں پڑے خطبہ چلی ہے آ [1]

حوالہ جاتترميم

[1] مشتاق، 1528ء۔ ماہنامہ اُردو: اکتوبر، صفحہ 37، مطبوعہ سال 1950ء.

حوالہ جاتترميم