دودھ کا دودھ پانی کا پانی​

ابجد
زیرتلاش ابجد تا ے تمام صفحات
آ ا ب پ ت ٹ ث ج چ
ح خ د ڈ ذ ر ڑ ز ژ
س ش ص ض ط ظ ع غ ف
ق ک گ ل م ن و ہ ی ے
زیرتلاش ابجد کے تحت صفحات
آ ا ب پ ت ٹ ث ج چ
ح خ د ڈ ذ ر ڑ ز ژ
س ش ص ض ط ظ ع غ ف
ق ک گ ل م ن و ہ ی ے

ضرب المثلترميم

دودھ کا دودھ پانی کا پانی​

Accessories-dictionary.svg مَعانیترميم

  1. اس کہاوت کا مطلب ہے انصاف ہونا اور یہ ایسے موقع پر بولی جاتی ہے جب سچ اور جھوٹ الگ ہوجائیں اور کسی کو اس کے اچھے یا برے کام کا بدلا ملے۔[1]

پس منظرترميم

اس کا قصہ یوں ہے کہ ایک گوالا بڑا بے ایمان تھا اور دودھ میں پانی ملا کر بیچا کرتا تھا۔ بہت جلد اس نے اچھے خاصے پیسے جمع کر لئے۔ ایک روز اس نے ساری رقم ایک تھیلی میں ڈالی اور اپنے گاؤں کی طرف چلا۔ گرمی کا موسم تھا۔ پسینہ چوٹی سے ایڑی تک بہہ رہا تھا۔ گوالے کے راستے میں ایک دریا پڑا۔ اس نے سوچا چلو نہا لیتے ہیں۔ رپوں کی تھیلی اس نے ایک درخت کے نیچے رکھی۔ تھیلی پر کپڑے ڈال دئیے اور لنگوٹ کس کر پانی میں کود پڑا۔ اس علاقے میں بندر بہت پائے جاتے تھے۔ اتفاق کی بات ایک بندر درخت پر چڑھا یہ ماجرا دیکھ رہا تھا۔ گوالے کے پانی میں اترتے ہی بندر درخت سے اترا اور رپوں کی تھیلی لے کر درخت کی ایک اونچی شاخ پر جا بیٹھا۔ گوالا پانی سے نکلا اور بندر کو ڈرانے لگا، لیکن بندر نے تھیلی کھولی اور رپے ایک ایک کر کے ہوا میں اڑانے لگا۔ درخت دریا کے کنارے سے بہت قریب تھا اور رپے اڑا اڑا کر پانی میں گرنے لگے۔ گوالے نے رپوں کو پکڑنے کی بہت کوشش کی، لیکن پھر بھی آدھے رپے پانی میں جا گرے۔ راستہ چلتے لوگ جو گوالے کی بے ایمانی سے واقف تھے اور یہ تماشہ دیکھنےجمع ہوگئے تھے گوالے کی چیخ و پکار سن کر کہنے لگے، "دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا۔" یعنی گوالے نے جو آدھے پیسے دودھ میں پانی ملا کر بے ایمانی سے کمائے تھے وہ پانی میں مل گئے۔ [1]

حوالہ جاتترميم

  1. 1.0 1.1 ہمدرد نونہال ۱۹۹۰​, کہاوتوں کی کہانیاں - رؤف پاریکھ​