عَدْل {عَدْل} (عربی)

ع د ل، عَدْل

عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور صفت مستعمل ہے اور سب سے پہلے 1564ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم نکرہ (مذکر - واحد)

معانیترميم

1. انصاف، داد گستری۔

"لیکن پیوند زدہ پیرہن اس عدل کی توہین کر رہے ہیں جو مسلم معاشرے کا محور ہے۔"، [1]

2. برابری، تسویہ، درمیانی راہ اختیار کرنا۔

"اسے اب ایک ایسے اشتراکی عدل کے ساتھ تقسیم کیا گیا ہے۔"، [2]

3. نظیر، مانند، ہمتا۔

4. اللہ تعالٰی کا ایک نام۔

؎ تو سلام و خالق و متعال و عدل و کریم

تو عزیز و باری و غفار و فتاح و علیم، [3]

انگریزی ترجمہترميم

Equity, justice, rectitude

صفت ذاتی [4]

معانیترميم

1. شاہد (گواہ) کی صفت کے طور پر مستعمل ہے، عادل، انصاف کرنے والا، گواہی دینے کے لائق۔

"آیۂ تطہیر ان کی طہارت پر شاہدِ عدل ہے۔"، [5]

مترادفاتترميم

بَرابَری، مُساوات، اِنْصاف، داد، عَدالَت، اِیمان،

مرکباتترميم

عَدْلِ فارُوقی، عَدْل پَرْوَری، عَدْل جُوئی، عَدْلِ جَہانْگِیری، عَدْلِ عِمْرانی، عَدْل گَٹْکَہ، عَدْل گُسْتَر، عَدْل گُسْتَری، عَدْلِ نو شِیرَوانی، عَدْلِ نو شِیرَواں

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1986ء، فیضان فیض، 62 )
  2. ( 1987ء، اک محشر خیال، 53 )
  3. ( 1984ء، الحمد، 84 )
  4. (واحد )
  5. ( 1887ء، نہرالمصائب،3، 556:5 )

مزید دیکھیںترميم

اسمترميم

عدل

فارسیترميم

اسمترميم

عدل

  1. عدل