مزید دیکھیے: ملکہ ادراک اور ملکہ سخن

اردوترميم

اشتقاقیاتترميم

عربی ملكة سے مستعار۔

ملکہ اردو میں بادشاہ کی بیوی کے لیے مستعمل ہے۔

اسمترميم

ملکہ مؤنث (جمع ملکائیں)

  1. وہ عورت جو تخت حکومت پر متمکن ہو ؛ بادشاہ کی بیوی ، رانی ، سلطانہ
  2. شہزادی ، بادشاہزادی (فرہنگ آصفیہ ؛ نوراللغات)۔
  3. (مجازاً) کسی خوبی یا صلاحیت میں سب سے ممتاز اور برگزیدہ عورت۔
  4. مہال کی سب سے بڑی مکھی جس کے ساتھ اور مکھیاں بطور پیش خدمت رہتی ہیں ، شہد کی مکھیوں کی رانی۔
  5. ساز و سامان (قدیم)

مثالترميم

  1. فتح نامہ بکھیری میں لفظ ملکہ ایک شعر کی صورت میں ملتا ہے:
    مکلّل زر اتن میں سر تا قدم
    چلیا ملکہ سار اجدہاں سب حشم[1]

حوالہ جاتترميم

  1. فتح نامہ یکھیری 1644ء، (سہ ماہی اردو ، کراچی ، اپریل، ص 154، 1988ء)