حَدبَنْدی {حَد + بَن + دی}

عربی زبان سے مشتق اسم حد کے ساتھ فارسی مصدر بستن سے صیغہ امر بند کے بعد ی بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً سب سے پہلے 1847ء کو "حملات حیدری" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت (مؤنث - واحد)

جمع: حَدْ بَنْدِیاں {حَد + بَن + دِیاں}

جمع غیر ندائی: حَدْ بَنْدِیوں {حَد + بَن + دِیوں (و مجہول)}

معانیترميم

1. کسی جگہ کے چاروں طرف باڑ لگانے یا احاطہ وغیرہ بنانے یا اس کے چوطرفہ سرے متعین کرنے کا عمل۔

"لوہے کے تاروں سے حد بندی کر کے ریلوے کمپنی نے یہاں ایک .... آبادی قائم کر دی تھی۔"، [1]

2. سرحد کا تعین۔

"یہ علاقہ بنجر اور تقریباً میدانی ہے جس کی حدبندی کوہ تسلی نے کر دی ہے۔"، [2]

3. رسائی، دسترس یا دائرہ کار کا تعین۔

"ہم ممکنات فطرت کی حدبندی نہیں کر سکتے۔"، [3]

4. ایک دوسرے سے الگ ہونے کی کیفیت، تفریق، امتیاز۔

"زمانے دو نہیں تین ہیں اور .... ان کی حدبندی نہیں کی جا سکتی۔"، [4]

5. باڑا، احاطہ، باڑ۔

"لان کی نیم بیضوی حدبندی پر .... بے شمار رنگوں کے پھول کھلے ہیں۔"، [5]

انگریزی ترجمہترميم

fixing the limits or boundaries (of)

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1982ء، مری زندگی فسانہ، 32 )
  2. ( 1968ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، 127:3 )
  3. ( 1923ء، سیرۃ النبی، 127:3 )
  4. ( 1963ء، علامتوں کا زوال، 97 )
  5. ( 1973ء، کپاس کا پھول، 309 )