حَمْزَہ {حَم + زَہ} (عربی)

ح م ز، حَمْزَہ

اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ 1564ء کو حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم معرفہ (مذکر - واحد)

معانیترميم

1. شیر، طاقتور، تیز فہم، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک چچا کا نام جو بہادری میں ضرب المثل تھے۔

؎ ہے سپر پشت مبارک پہ کہ حمزہ کی سپر

ذوالفقارِ اسداللہ کہ شمشیر دو دم، [1]

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1872ء، مرآۃ الغیب، 7 )