حَیات {حَیات} (عربی)

ح ی ی، حَیات

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اصل حالت اور اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ 1609ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم کیفیت (مؤنث - واحد)

معانیترميم

1. زندگی، جان (ممات کی ضد)۔

"حیات موت کے خلاف پیکار اور حرکت ہی کا نام ہے۔"، [1]

2. (قدیم) روح، جان۔

؎ لگا رونے سیف الملوک سن یو بات

نکل تن تھے گئی تیوں ہوا اس حیات، [2]

انگریزی ترجمہترميم

life

صفت ذاتی [3]

معانیترميم

1. زندہ، جیتا، بقید حیات۔

"خدا کرے کرنل وائڈ میں زندہ برقرار ہو، چند سال پہلے تک تو وہ مغربی جرمنی میں حیات تھا"، [4]

انگریزی ترجمہترميم

living

مترادفاتترميم

زِنْدَگی، زِیسْت، رُوح، جان، وُجُود، مَعِیشَت،

مرکباتترميم

حَیاتِ اَبَدی، حَیاتِ اِجْتِماعی، حَیات اَفروز، حَیات اَفْروزی، حَیات اَفْزا، حَیاتُ النَّبی، حَیات بَخْش، حَیات بَخْش بَعْدَالْمَوت، حَیات بَخْشی، حَیاتِ تازَہ، حَیاتِ ثانِیَہ، حَیاتِ جاوِدانی، حَیاتِ جاوِداں، حَیاتِ جاوید، حَیاتِ جَرِیدَہ، حَیات خیز، حَیات خیزی، حَیات دار، حَیاتِ شاعِرَہ، حَیاتِ طَیِّبَہ، حَیاتِ عامَہ، حَیاتِ قانُونی، حَیات کُش، حَیات کِیمِیائی جِینِیات، حَیات کِیمِیائی زَوابَہ، حَیات کِیمِیائی عَمَلِیّات، حَیات کِیمِیائی عَوامِل، حَیات مُسْتَعار، حَیاتِ مَعْنَوی، حَیات نامَہ، حَیاتِ نَو، حَیات و مَمات

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1981ء، افکار و اذکار، 203 )
  2. ( 1625ء، سیف الملوک و بدیع الجمال، 131 )
  3. (واحد )
  4. ( 1984ء، گردراہ، 133 )

مزید دیکھیںترميم


فارسیترميم

اسمترميم

حیات

  1. حیات

مترادفاتترميم

مرکباتترميم