اردوترميم

اسم- اسم نکرہ

مؤنث- (مذکر)

واحد- (جمع)

مترادفات- اوس

متضاد-

اشتقاقیاتترميم

فارسی اسم 'شب' کے ساتھ فارسی اسم 'نم' ملنے سے 'شبنم' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

تلفظترميم

  • ش ب ن م
  • شَب + نَم
  • شَبْنَم
  • Audio

معانیترميم

مرکباتترميم

  1. شبنم افشاں
  2. شبنم افشانی
  3. اشک شبنم


روزمرہ جاتترميم

  1. [[]]

ضرب الامثالترميم

  1. [[]]

ماخوذ اصطلاحاتترميم

اقوالترميم

مزید دیکھیںترميم

حوالہ جاتترميم

ادبی حوالہ جاتترميم

نثری حوالہ جاتترميم

  • "سرخ کامدانی کا شبنم کا بغیر چنا دوپٹہ" (١٩٦٤ء، نور مشرق، ٥٣)
  • "یہاں نہ کوئی درخت ہو گا نہ پھول پتے، نہ گھاس شبنم" (١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ١٠٠)

شعری حوالہ جاتترميم

  • اے حسنِ بے پرواہ تجھے شبنم کہوں، شعلہ کہوں - پھولوں میں بھی شوخی تو ہے، کس کو مگر تجھ سا کہوں

فقراتترميم

تراجمترميم

رومنترميم

  • Shabnam

انگریزیترميم

Dew .1

2. Night-Moisture

3. A very fine muslin a kind of fine linen

فارسیترميم

ادبی حوالہ جاتترميم

ما ان تبكي حتى تسيل دموع على وجههاكهمعت الظٓلّ على الوردة.

نثری حوالہ جاتترميم


شعری حوالہ جاتترميم

  • شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے - داغِ دلِ بے درد، نظر گاہِ حیا ہے (مطلع غزل از مرزا اسد اللہ خان غالب)