ضَمِیر {ضَمِیر} (عربی)

ض م ر، ضَمِیر

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم مستعمل ہے۔ 1657ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

اسم مجرد (مذکر، مؤنث - واحد)

جمع: ضَمِیروں {ضَمی + روں (واؤ مجہول)}

جمع استثنائی: ضَمائِر {ضَما + اِر}

معانیترميم

1. دل، قلب، باطن، صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی اخلاقی حس، نیک و بد کا احساس، نیکی کا جذبہ۔

"کہا جاتا ہے ادیب معاشرے کا ضمیر ہوتا ہے۔"، [1]

2. (چھپا ہوا) راز، بھید (فرہنگ آصفیہ)۔

3. { تصوف } اندیشۂ دل اور اندرونِ دل اور جو کچھ دل میں گزرے اور خواہر دل نیز پوشیدہ چیز۔

(مصباح التعرف)

4. { قواعد }وہ اسم جو اسم ظاہر کا قائم ہو، یعنی وہ مختصر سا اسم جس سے متکلم یا حاضر یا غائب مراد لیا جاتا ہے۔ مثلاً میں، تم وہ وغیرہ۔

"ضمیر خواہ کسی قسم کی ہوں جیسے، میں اس سے نہیں بولتا، وہ مجھ سے نہیں ملا۔"، [2]

انگریزی ترجمہترميم

A personal; heart, mind; the recesses of the mind, the secret thoughts; thought, reflection, sense, conscience, conception, idea, comprehension

مترادفاتترميم

راز، دِل، اِسْم، نیچَر،

مرکباتترميم

ضَمِیرِ اِسْتِفْہام، ضَمِیرِ اِضافی، ضَمِیر آگاہ، ضَمِیرِ بَیانی، ضَمِیرِ تابِع، ضَمِیرِ تَنْکِیر، ضَمِیرِ حاضِر، ضَمِیرِ غائِب، ضَمِیرِ فاعِل، ضَمِیر کا قَیدی، ضَمِیرِ مُتَکَلِّم، ضَمِیر مَفْعُولی، ضَمِیردار، ضَمِیرداری، ضَمِیر فِروش

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1987ء، کچھ نئے اور پرانے افسانہ نگار، 132 )
  2. ( 1973ء، جامع القواعد (حصہ نحو)33 )

مزید دیکھیںترميم

فارسیترميم

اسمترميم

ضمیر

  1. ضمیر