ٹھوکْنا {ٹھوک (واؤ مجہول) + نا} (سنسکرت)

توکش، ٹھوک، ٹھوکْنا

سنسکرت کے اصل لفظ توکش سے ماخوذ اردو زبان میں ٹھوک مستعمل ہے اس کے ساتھ اردو لاحقۂ مصدر نا لگنے سے ٹھوکنا بنا۔ اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے۔ 1635ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

متغیّرات


ٹھونْکْنا {ٹھونْک (واؤ مجہول) + نا}

فعل متعدی

معانیترميم

1. گاڑنا ضرب لگا کر داخل کرنا؛ گھسانا۔

"قلم کا ایک رخ قلمی تراش کر سخت ٹھوک دیں۔"، [1]

2. زد و کوب کرنا، لات مکے مارنا۔

"نوکر سے فرمایا اس فقیر کو اسیر کر کے خوب ٹھوک۔"، [2]

3. پاؤں میں بیڑیاں ڈالنا، کاٹھ میں پانو دینا۔

(نوراللغات)

4. پکانا (روٹیوں کے ساتھ)۔

"وہ کون ہیں آپ کے وہ روٹیاں ٹھونکنے والے شبراتی"۔، [3]

5. عرضی دینا، نالش کرنا۔

"نالش ٹھونکنا۔"، [4]

6. جڑنا، لگانا۔

"قفل ٹھوکنا۔"، [5]

7. (تیل وغیرہ) ہاتھ سے تھپک تھپک کر جذب کرنا۔

"کبھی ہمارے سر میں تیل ٹھونکتا۔"، [6]

8. (طبلہ وغیرہ پر) ضرب لگا کر بجانے کے لیے درست یا تیار کرنا۔

"کوئی طبلے کے پڑے ٹھونک کر چست کرتا ہے۔"، [7]

9. تھپتھپاتا۔

(نوراللغات)

10. کھٹکھٹانا۔

"بلال دروازے پر ابوبکر ہور عمر کے آئے کہ یو افضل اصحاب ہیں ہور دروازہ ٹھونکے۔"، [8]

فعل کی حالتیں

ٹھوکْنا {ٹھوک (واؤ مجہول) +نا}ٹھوکْنے {ٹھوک (واؤ مجہول) +نے} ،

ٹھوکْنی {ٹھوک (واؤ مجہول) +نی}ٹھوکْتا {ٹھوک (واؤ مجہول) +تا} ،

ٹھوکْتے {ٹھوک (واؤ مجہول) +تے}ٹھوکْتی {ٹھوک (واؤ مجہول) +تی} ،

ٹھوکْتِیں {ٹھوک (واؤ مجہول) +تِیں}ٹھوکا {ٹھو (و مجہول) + کا} ،

ٹھوکے {ٹھو (و مجہول) + کے}ٹھوکی {ٹھو (و مجہول) + کی} ،

ٹھوکِیں {ٹھو (و مجہول) + کِیں}ٹھوکا {ٹھو (و مجہول) + کا} ،

ٹھوکے {ٹھو (و مجہول) + کے}ٹھوکیں {ٹھو (و مجہول) + کیں(یائے مجہول)} ،

ٹھوکُوں {ٹھو (و مجہول) + کوں}ٹھوک {ٹھوک (واؤ مجہول)} ،

ٹھوکو {ٹھو (واؤ مجہول) + کو (و مجہول)}ٹھوکْیو {ٹھوک (و مجہول) +یو(واؤ مجہول)} ،

ٹھوکْیے {ٹھوک (و مجہول) + یے}

انگریزی ترجمہترميم

to make firm, to drive in (a stake , peg); to hammer, strike, beat, thump, knock; to pat, tap, fillip; to thrust with the finger; to play, perform on (the kettle-drum); to put in the stocks; to enter (a complaint), file (a suit or action)

مترادفاتترميم

گاڑْنا، دھانسنا

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1930ء، شفتالو، 39 )
  2. ( 1824ء، سیر عشرت، 82 )
  3. ( 1965ء، چار ناولٹ، 146 )
  4. ( 1924ء، نوراللغات )
  5. ( 1924ء، نوراللغات۔ )
  6. ( 1915ء، سجاد حسین، حاجی بغلول، 6 )
  7. ( 1897ء، انتخاب طلسم ہوشربا، 197 )
  8. ( 1697ء، پنج گنج، 65 )