حَمِید {حَمِید} (عربی)

ح م د، حَمْد، حَمِید

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ 1866ء کو"گلدستۂ امامت" میں مستعمل ملتا ہے۔

صفت ذاتی (مذکر - واحد)

جنسِ مخالف: حَمِیدَہ {حَمی + دَہ}

معانیترميم

1. ممدوح، ستودہ، پسندیدہ۔

؎ وہ رابعہ سلطان کہ ہے ارض سے جس کا

تا چرخ بریں غلغلۂ خلق حمید آج [1]

نیک، مبارک۔

"سبحان اللہ وہ کیا زمانہ سعید اور وقت حمید تھا۔" [2]

2. خدا کا ایک صفاتی نام۔

؎ تہیں ہے وکیل ہور تو نہیں شہید

تہیں ہے معید ہور تو نہیں حمید، [3]

3. { عروض } ایک بحر کا نام۔ (دائرہ)

"اگر جز و پنجم سے شروع کرو تو ایک بار، لاتن فاع، لاتن مفا، عیلن فاع، برابر مفعولات۔ مستغلعن۔ مفعولات کے ہو گا اور یہی بحرحمید ہے۔"، [4]

انگریزی ترجمہترميم

praised, commended, approved; praise-worthy, laudable, commendable, approvable

مترادفاتترميم

مَمْدُوح، مَحْمُود

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1922ء، زاہدہ خاتون، فردوس تخیل، 321 )
  2. ( 1846ء، تذکرہ اہل دہلی، 88 )
  3. ( 1609ء، قطب مشتری، 2 )
  4. ( 1871ء، قواعدالعروض، 38 )