طَرْز {طَرْز} (عربی)

ط ر ز، طَرْز

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور شاذ بطور حرف مستعمل ہے۔ 1511ء کو "مشتاق (اردو، اکتوبر، 1950)" میں مستعمل ملتا ہے

اسم مجرد (مذکر، مؤنث - واحد)

جمع: طَرْزیں {طَر + زیں (ی مجہول)}

جمع غیر ندائی: طَرْزوں {طَر + زوں (و مجہول)}

معانیترميم

1. طریقہ، روش، قاعدہ، دستور۔

"میرا گھر پرانی طرز کا تھا۔"، [1]

2. (اظہار یا ادائی مطلب کے لیے)ڈھنگ، انداز۔

"سبحان اللہ کیا دلچسپ کہانی ہے اور کتنا دلکش آپ کا طرزِ غزل خوانی ہے۔"، [2]

3. خصلت، خُو۔

؎ لیا تعلیم میں ہے آسماں نے

تری رفتار میں طرز تحمل، [3]

4. (نثر یا نظم کا) رنگ، اسلوب۔

"یوں تو پیروی میر و غالب پہلے بھی تھی لیکن وہ پیروی ان کے طرز کی ہوتی۔"، [4]

5. شکل، ہئیت، وضع، ڈھنگ۔

"یہ مسجد اپنے طرز کی مسجد ہے دلی کی باقی مسجدوں سے الگ۔"، [5]

انگریزی ترجمہترميم

Form, manner

حرف تشبیہ

معانیترميم

1. طرح، مثل۔

؎ کہ جھوما کروں بید مجنوں کی طرز

رہے یاد اس سرد موزوں کی طرز، [6]

مترادفاتترميم

نَقْشَہ، تَراش، تیوَر، سِکَّہ، اِسْٹائِل، ڈھال، طَرِیقَہ، رَنْگ، عُنْوان، دھُن، طَور، اَنْداز، ڈھَب، اُسْلُوب، شَکْل، خُو، طَرْح، ٹَرْم، قِسْم،

مرکباتترميم

طَرْزِ اَدا، طَرْزِ تَحْرِیر، طَرْزِ نِگارِش، طَرْز کار

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1982ء، مری زندگی فسانہ، 20 )
  2. ( 1901ء، الف لیلہ، سرشار، 35 )
  3. ( 1707ء، ولی، کلیات، 139 )
  4. ( 1979ء، دریا آخر دریا ہے، 14 )
  5. ( 1983ء، زمین اور فلک اور، 99 )
  6. ( 1810ء، میر، کلیات، 977 )

مزید دیکھیںترميم

رومنترميم

tarz

تراجمترميم

  • انگریزی: A way to do Something/work and Technology