غُرُوب {غُرُوب} (عربی)

غ ر ب، غُرُوب

ثلاثی مزید فیہ کے باب سے مصدر ہے اردو میں اسم کیفیت کے طور پر مستعمل ہے۔ 1635ء کو "مینا ستونتی" میں استعمال ہوا۔

اسم کیفیت (مذکر - واحد)

معانیترميم

1. چاند یا سورج کا چھپنا، ڈوبنا، (طلوع کی ضد)۔

"ہم اپنی روزمرہ زندگی میں بہت سے قدرتی مظاہر کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں مثلاً سورج کا طلوع اور غروب ہونا"۔، [1] 2. چاند اور سورج وغیرہ کے ڈوبنے کی جگہ یا سمت، مغرب، پچھم۔

؎ چلا کوئی مشرق چلا کوئی غروب

چلا کوئی شمال اور چلا کوئی جنوب، [2]

انگریزی ترجمہترميم

setting (of the sun); occultation; sunset; the west

مترادفاتترميم

چھُپاؤ، پوشِیدَگی

حوالہ جاتترميم

  1. ( 1925ء، طبیعیات ( ترجمہ)1 )
  2. ( 1719ء، جنگ نامہ، عالم علی خان، 44 )